3 اپریل 2013 - 19:30

آیت اللہ مدرسی نے اپنے بیان میں شیخ االنمر کے خلاف کاروائی کرنے والی سعودی عدالتوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام مومنین بالخصوص علمائے اعلام سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی عرب میں بسنے والے محبان اہلبیت (ع) پر ڈھائے جانےوالے ظلم و ستم کو رکوانے اور ان کے جائز حقوق دلوانے کے لیے بھرپور تلاش و کوشش کریں۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی ۔ابنا۔ آیت اللہ محمد تقی مدرسی نے ایک اہم بیان صادر کر کے حجت الاسلام و المسلمین شیخ نمر باقر النمر کی نسبت سعودی اٹارنی جنرل کی طرف سے سزائے موت کے لیے صدور حکم کے مطالبہ کی شدید مذمت کی۔اس بیان میں آیت اللہ مدرسی نے کہا ہے کہ ہم تمام مومنین بالخصوص علمائے اعلام سے تقاضا کرتے ہیں کہ سعودی عرب میں شیعوں پر ہونے والے ظلم و ستم کو سد باب کرنے اور ان کی جائز حقوق دلوانے کی تلاش و کوشش کریں۔بیان کا ترجمہ:بسم اللہ الرحمن الرحیمسعودی عرب کے مشرقی علاقہ میں آل سعود کے اہلکاروں کی طرف سے عوام کو وحشیانہ انداز میں تشد۔د کا نشانہ بنانے کا عمل جاری ہے وہ عوام جو اپنے جائز اور شرعی حقوق کا پر امن طریقہ سے مطالبہ کر رہے ہیں۔حال حاضر میں بہت سارے علماء اور مومن جوان کال کوٹھریوں میں شدید شکنجوں کا شکار ہیں مخصوصا حضرت آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر حفظہ اللہ کہ جنہیں نماز جمعہ کے خطبوں میں عوام کے جائز اور شرعی مطالبات کی حمایت کرنے کی وجہ سے سعودی اٹارنی جنرل نے ان کو سزائے موت دینے کے لیے صدور حکم کا مطالبہ کیا ہے۔ہم آل سعود کی عدالتوں اور حفاظتی دستوں کی بد اخلاقیوں کو شدت سے محکوم کرتے ہوئے تمام مومنین بالخصوص علمائے اعلام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں ساکن مومنین پر ہونے والے ظلم و ستم کا سد باب کرانے اور ان کے آزادی سے کتاب خدا، سنت رسول (ص) اور سیرت ائمہ اطہار (ع) کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے جائز حقوق دلوانے کی تلاش و کوشش کریں۔قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے بزرگ عالم دین، آیت اللہ شیخ نمر باقر النمر کو ۸ مہینہ جیل میں بند کرنے کے بعد ۲۶ مارچ کو ریاض کے ہائی کورٹ سے اس ملک کے اٹارنی جنرل نے منجملہ، قطیف میں حکومت کے خلاف عوام کو بھڑکانا، ملک میں بیرونی مداخلت کے اسباب فراہم کرنا اور بحرین میں فساد کی حمایت کرنا، جیسے الزامات عائد کر کے ان کو سزائے موت دینے کے لیے صدور حکم کا مطالبہ کیا  ہے!۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲